Zamin Sb Ka Imambara
ضامن صاحب کا امام باڑہ
مغربی بنگال بالخصوص کلکتہ اور مٹیا برج والوں کے لئے مرحوم سید ضامن حسین نقوی کی ذات کسی تعارف کی محتاج نہیں ۔مرحوم مخلص' ملنسار' مومن اور سراپا عزادار تھے۔ ان کی زندگی میں اگر نوکری کے بعد کوئی مصروفیات تھیں تو وہ محفلوں اور مجلسوں میں شرکت کی صورت میں تھیں۔ محفل کا زمانہ ہو یا ایامِ عزا کا وقت ہو اور کہیں بھی مجلس و محفل ہو وہ اس میں شریک ضرور ہوتے تھے' خواہ ایک ہی خطیب ایک دن میں مختلف امام باڑوں میں مجلسیں کیوں نہ پڑھے وہ تا بہ مقدور ہر امام باڑے میں شریک ہوتے تھے۔ ایسا ہی کچھ جذبہ ان کی اہلیہ کا بھی ہے۔ اگرچہ ان کی اہلیہ ابھی تک بہ حیات ہیں اور بڑے شان سے عزاداریِ مظلوم کربلا کرتی ہیں- گزشتہ دنوں لاک ڈاؤن میں جس شان و شوکت اور جس انداز سے ماہ محرم میں مجلسوں کا انہوں نے اہتمام کیا اسے وہی شخص بتا سکتا جس نے اس میں شرکت کی ہو۔ جہاں مرحوم ضان صاحب نے اپنے 450 اسکوائر فٹ کے دو کمرے میں ایک شاندار خمسہ مجالس کا اہتمام کیا وہاں ان کی ایلیہ نے 2مہینے آٹھ دن کے علاوہ ہر ائمہ کی ولادت اور شہادت پر جشن اور مجلس کا اہتمام کرکے خواتین کے قلب و سکون کا سامان ہی نہیں بلکہ آنے والے وقتوں میں نسل در نسل امام باڑے اور مجلس و محفل کے فروغ اور اشاعت کے لئے اس علاقے میں ایک خوش گوار فضا تیار کردی۔
صامن صاحب کا یہ امام باڑہ 32 ڈی میاں جان استاگر لین'(نزد چار نمبر(بریج)'کولکاتہ-17 پر واقع ہے۔اس امام باڑےکا احاطہ 450 اسکوئر فٹ پر مشتمل ہے۔ اس کے 100 میٹر کے اندر کئی مشہور علمی' مذہبی اور سائنسی عمارتیں مثلا آئی کیر ہاسپٹل' انڈین سائنس کانگریس اسوسیشن' انڈین میڈیکل اسوسیشن' چائلڈ ہاسپیٹک' ہمایوں کبیر انسٹی ٹیوٹ اور خانقاہ قادریہ وغیرہ قائم ہیں -اس کے پہلو میں مرحومہ پیاری بیگم کا امام باڑہ( اس امام باڑے کا تفصیلی بیان آئیندہ باب میں کیا جائے گا) بھی بنا ہوا ہے۔ ضامن صاحب کا امام باڑہ دراصل 1970 میں بنی ایک عمارت میں ایک رہائشی مکان کے اندر بنا ہوا ہے' جہاں اہلِ خانہ کی خواتين مجلسِ سیدالشہداء علیہ السلام ایامِ عزا میں برپا کرتی ہیں- اور جس کا سلسلہ 1971 سے لیکر آج تک قائم ہے بلکہ روز بہ روز مزید اضافے کے ساتھ جاری و ساری ہے۔ یہ امام باڑہ صرف ایامِ عزا یعنی دو مہینہ آٹھ دن ہی سجا رہتا ہے- اس کا پورا ڈھانچہ لکڑیوں سے بنا ہوتا ہے-6 محرم کو حضرت علی اکبر علیہ السلام کی شبیہ تابوت' 7محرم کوحضرت قاسم علیہ السلام کی مہدی کا جلوس اور 8 محرم کو حضرت عباس علیہ السلام کا علمِ مبارک بھی اس امام باڑے کا اندر اٹھایا جاتا ہے۔ اس کے علاوه 10صفراور 18 صفر کے دن جناب سکینہ سلام اللہ علیہا اور جناب زینب سلام الله علیہا کے تابوت کی شبیہ بھی خواتین کے درمیان بالترتیب برآمد کی جاتی ہیں۔ اور اسی امام باڑے سے زنانی مجلسوں کے ساتھ ساتھ مردانی مجلسوں کا بھی اہتمام کیا گیا-
اس امام باڑے میں 1980ء سے مردانی مجلسوں کی بنیاد پپڑی- شروعات میں دو مجلسیں ہوتی تھیں پھر 1983ء سے تین دنوں کی مجلسیں ہونے لگیں اور پھر کچھ عرصہ گزرنے کے بعد یہی مردانی سہ روزہ مجالس' "خمسہ مجالس" میں تبدیل ہوگئیں اور اب یہ خمسہ مجالس 22 صفر المظفر تا 26 صفر المظفر رات 8 بجے پابندی سے ہر سال منعقد ہوتا ہے۔ شروع شروع میں ان مجالس کے لئے مقامی ذاکرین کی خدمت لی جاتی رہی لیکن اب اس امام باڑے میں باقاعدہ بیرونی علماء و ذاکرین خطاب فرماتے ہیں۔ اس امام باڑے کے ذاکرین میں جناب سید اخلاق حسین المتخلص بہ اوج اعظمی صاحب' جناب کرار حسین صاحب' جناب سید محمد احمد عرف محمدو صاحب' جناب اعجاز غدیری صاحب : جناب الیاس حسین صاحب 'جناب سید علی حیدر عابدی صاحب ' جناب سید تسلیم رضا صاحب' جناب ڈاکٹر شفیق حسین شفق صاحب اور جناب سید پرویز بلیاوی صاحب وغیرہ خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں اور اتناہی نہیں بلکہ تقریباََ 30 سال سے اس امام باڑے میں خمسہ مجالس کے آخری روز جلوسِ عزاء بھی بڑی اہتمام کے ساتھ برآمد کیا جاتا ہے۔


Comments
Post a Comment