امام باڑے۔تعریف۔مقصد۔اہمیت

 امام باڑہ

امام باڑہ اس مقام کو کہا جاتا ہے جہاں حضرت محمد مصطفیٰ صلی الله و علیہ وسلم کے نواسے حضرت امام حسین علیہ السلام کے روضے کی شبیہ ضریح مبارک' تعزیہ' تابوت اور علمِ حضرت عباس علیہ السلام کے علاوہ دوسرے شہدائے کربلا کی یاد سے تعلق رکھنے والے تبرکات موجود ہوں اور ان میں خصوصیت کے ساتھ مجالسِ سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام منعقد کی جائیں اور ہر ائمہ معصومین  کی ولادت اور شہادت کے موقعوں پر محفلوں اور مجالس کا بھی عام طور اہتمام کیا جائے- چنانچہ امام باڑوں کی قدیم روایت میں یہی دیکھا گیا ہے کہ امام باڑوں میں حضرت امام حسین علیہ السلام کی ولادت و شہادت کے ساتھ ساتھ دیگر ائمہ معصومین  حتی کہ سرکارِ دوعالم صلی الله و علیہ وسلم کی ولادت پر جشن اور رحلت پر غم کیا جاتا رہا ہے- اور ان دنوں مومنین کی دیگر فلاح و بہبود کے امور کی انجام دہی کے طور پر اسے استعمال کیا جارہا ہے- مثلاً موجودہ کوونا کی وباء کے روک تھا کے لئے امام باڑے میں ویکسین کیم لگایا جارہا ہے- حالانکہ یہ امام باڑے ایک زمانے سے مساجد کی خاص اہمیت اور تقدس کے بعد محبانِ آلِ رسولۖ کا دوسرا بڑا اور اہم ثقافتی' تہذیبی' مساواتی اور قومی یکجہتی کا مرکز سمجھا جاتا رہا ہے- آج بھی اکثر گاؤں اور قصبوں سے زائرین جو ایران اور عراق یا حج و عمرہ کے لئے آتے ہیں ان کی سرائے یہی امام باڑے ہوتے ہیں- کہیں کہیں بالکل مفت انتظام رہتا ہے اور کہیں کہیں برائے نام پیسے لئے جاتے ہیں- 

امام باڑے کو کہیں امام بارگاہ کہیں عاشور خانہ کہیں عزاخانہ کہیں تکیہ و حسینیہ( ایران میں ابتدائی دنوں میں تکیہ اور پھر بعد میں حسینیہ ناموں کی روایت ملتی ہے)  کہیں منبر( افغان میں) اور کہیں ضریح خانہ بھی کہا جاتا ہے- روایت ملتی ہے کہ اس وقت جب امام باڑوں کا جدید تصور  پیدا نہیں ہوا تھا تو مجلسِ سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کے لئے مساجد' معصومین کے روضہائے مقدسات اور بازاروں کا انتخاب کیا جاتا تھا- لیکن موجودہ دور میں امام باڑوں ہی واقعاتِ کربلا کے لئے موزوں مقام کہلانے لگا- بعض جگہوں پر لوگ ایک پوری عمارت اس کے لئے وقف کردیتے ہیں اور بعض جگہوں پر یہ امام باڑہ ایک مکان تک محدود رہتا ہے اور بعض مقام پر( معاشی تنگ دستی یا کسی اور مجبوری کی وجہ سے) یہ امام باڑہ گھر کے ایک گوشے میں ہی بنایا جاتا ہے- اگرچہ یہ امام باڑے حضرت امام حسین علیہ السلام سے منسوب ہوتے ہیں لیکن دیگر مذہبی مقامات کی طرح ان کے بھی نام رکھ دئیے جاتے ہیں- مطلب یہ کہ کبھی بانیِ امام باڑہ کی مناسبت سے حاجی کربلائی کا امام باڑہ کہیں انارو بی بی کا امام باڑہ' کہیں بندوق گلی یا شیشہ گلی کا امام باڑہ اور درگاہِ شاہ نجف وغیرہ- بعض جگہوں پر جہاں امام باڑہ کس عمارت یا ایک کمرے کی شکل میں ہوتا ہے وہاں یہ امام باڑہ سال بھر سجا ہوا ہوتا ہے اور ان میں سے بعض تو دن کے 10 گھنٹوں اور سال کے 365 دن کھلے ملتے ہیں- لیکن امام باڑہ چاہے چھوٹی سی جگہ پر ہو یا بڑی جگہ پر بنایا گیا ہو ایامِ عزا( محرم الحرام کی پہلی تاریخ سے ربیع الاول کی 8 تاریخ تک)  میں سجے ہوئے ہوتے ہیں- یہ جگہ وہ ہوتی ہے جہاں شیعیانِ حیدر کرار اور محبانِ رسولۖ و آلِ رسولۖ  کی ایک جماعت اکٹھا ہوتی ہے اور حضرت امام حسین علیہ السلام کے مصائب کا ذکر کرکے گریہ وزاری کرتی ہے - اس جماعت میں ہر مکتبِ فکر اور ہر مذہب و ملت نیز ہر رنگ و نسل کے افراد شامل ہوتے ہیں- ان افراد میں مرد اور عورت دونوں ہوتے ہیں لیکن ان کے بیٹھنے کی جگہ الگ ہوتی ہے- مردوں کی مجلس ( حضرت امام حسین علیہ السلام کا بیان) کو بذریعہ لاؤڈ اسپیکر یا دیگر الیکٹرانک میڈیا سے خواتین سماعت فرماتی ہیں-مردوں کے علاوہ خواتین بھی امام باڑوں  میں مجلسیں برگزار کرتی ہیں - امام باڑوں کو محرم الحرام کے شروع ہونے سے مہینے یا پندرہ دنوں پہلے سے سجانے اور سنوارنے کا اہتمام کیا جاتا ہے- امام باڑوں کے رنگ و روغن' صفائی ستھرائی اور آراستگی میں گھر کی عورتوں کا ایک بڑا کردار اور جذبہ کارفرما رہتا ہے- ہر سال نئے نئے کپڑوں اور سامانوں سے امام باڑے سجائے اور سنوارے جاتے ہیں- شیشوں کے قمقموں اور چھاڑوں سے امام باڑوں کو منور کیا جاتا ہے-  امام باڑوں میں مجلسوں کے اہتمام کے ساتھ ساتھ مومنین و مومنات اور عزاداروں کے لئے تبرکات اور سبیلوں کا انتظام بھی ہوتا ہے ہر ملک میں امام باڑوں کو اپنے اپنے طریقوں سے سجایا اور سنوارا جاتا ہے- کہیں اس کو بڑی سادگی کے ساتھ تو کہیں ان امام باڑوں کی تعمیر میں بڑا اہتمام کیا جاتا ہے- ان امام باڑوں کی تزائین کاری اور رنگ و روغن یا دیگر چیزوں کے لئے جو اخراجات آتے ہیں' اس کو  کہیں تو خود بانی امام باڑہ یا کہیں خالص عوامی چندوں اور کہیں ان امام باڑوں کے متولیاں یا انتظامیہ کمیٹی پورا کرتی ہیں- امام باڑوں کی مجلسوں میں سوز خوانی' سلام' مرثیہ خوانی'  مجلسوں کے آغاز میں پڑھے جاتے ہیں پھر کوئی عالمِ دین نثر میں واقعاتِ کربلا بیان کرتا ہے اس کے بعد انجمنوں کی جانب سے نوحہ خوانی کی جاتی اسی کو اصطلاحی معنی میں مجلس کہتے ہیں اگرچہ ہر مجلس میں یہ ترتیب نہیں ہوتی صرف سلام اور تقریر اور نوحہ ہی پیش کئے جاتے ہیں اور اس طرح مجلس مکمل ہوجاتی ہے- محرم الحرام کی دسویں تاریخ کا دن عاشورہ کہلاتا ہے اور اس دن عزادارانِ مظلومِ کربلا سارے دن گریہ و ماتم و مجلس و جلوس میں گزارتے ہیں اور فاقہ کرتے ہیں-  عصر کے وقت جب تعزئیے دفن کرلیتے ہیں تب فاقہ شکنی کرتے ہیں- صفر المظفر کی بیسویں تاریخ کو حضرت امام حسین علیہ السلام کا چالیسوں ہوتا ہے- اس دن کو عزاداروں کی زبان میں اربعین کہا جاتا ہے- مجلس کے عموماً دو حصے ہوتے ہیں- پہلے حصے میں کربلا کے واقعات سے جڑے افراد مثلاً حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے 72 رفقاء اور عزیزو اقارب کی سیرت: بہادری' شجاعت' طہارت اور کردارِ حسنہ کو پیش کیا جاتا ہے جبکہ دوسرے حصے میں مذکورہ بالا افراد کی درد ناک شہادت کا بیان  ہوتا ہے جسے سن کر مومنین گریہ و زاری کرتے ہیں- مجلس کا یہی حصہ مآلِ مجلس یا روحِ مجلس کہلاتا ہے- بعدِ مجلس کھڑے ہوکر انجمنہائے ماتمی ماتم و سینہ زنی اور نوحہ خوانی کرتی ہیں اس کے بعد سلامِ شہدائے کربلا پر مجلس کا اختتام ہوتا ہے- امام باڑے تقریباً تقریباً ہر ملک میں جہاں جہاں شیعیانِ حیدر کرار اور محبانِ رسولۖ و آلِ رسولۖ بستے ہیں موجود ہیں اور وہاں مجلس برگزار کرنے کا ڈھنگ بھی یہی ہے جس کا ذکر مذکورہ بالا سطور میں کیا گیا ہے- ہمارے ہندوستان میں بھی جہاں لاکھوں کی تعداد  میں امام باڑے موجود ہیں محرم الحرام کی پہلی تاریخ سے ربیع الاول کی آٹھ تاریخ تک غمِ سید الشہداء منایا جاتا ہے- غمِ سید الشہداء کے منانے والوں کو اصطلاح معنی میں عزادار کہا جاتا ہے- یہ عزادار ایامِ عزا (محرم الحرام کی پہلی تاریخ سے ربیع الاول کی آٹھ تاریخ تک) میں سیاہ پوش لباس زیب تن کرتے ہیں اور برہنہ پا رہتے ہیں( اگرچہ بعض وجوہات کی بنا پر آج کل اس کی مکمل طور پر پابندیاں نہیں کی جانتیں اور لوگ سفید اور سبز لباس میں بھی ان ایام میں شریک ہوتے ہیں)- حکومتِ ہند کے ساتھ ساتھ بنگال کی صوبائی حکومت بھی قابلِ تعریف ہے کہ بعض علاقوں میں وہ خود اپنی دیکھ ریکھ میں اور بعض مقام پر ان امام باڑوں کی مجلسوں کے اہتمام میں قانونی امداد فراہم کرکے حضرتِ امام حسین علیہ السلام سے محبت اور عقیدت نیز انسان دوستی کا ثبوت دیتی ہے- ہم ان حکومتوں کی امام حسین علیہ السلام سے محبت اور عقیدت کا شکریہ ادا کرتے ہیں- قصہ مختصر یہ کہ آج میں ان ہی مقدس و معتبر مقام یعنی امام باڑوں کا اجمالی تذکرہ شروع کرنے جارہا ہوں جو مغربی بنگال کے مختلف شہروں' قصبوں اور گاؤں میں موجود ہیں- مجھے نہیں معلوم کہ میرا یہ سفر کن کن امام باڑوں کو عوام سے متعارف کرواسکے گا اس لئے کہ ان امام باڑوں کے ذمداروں کی مدد کے بغیر یہ سفر جاری رکھنا ناممکن ہے- اب میری اس تحریر کو پڑھ کر کوئی یہ سوال یا ضد نہ کرے کہ میں نے فلاں امام باڑے کا ذکر کیوں نہیں کیا یا فلاں امام باڑے کا بیان بعد میں کیوں کیا جبکہ وہ قدیمی امام باڑہ تھا- تو بھائی اس کا سیدھا سا جواب یہ ہے کہ اس امام باڑے سے متعلق معلومات نہیں تھی یا پھر   بعد میں حاصل ہوئی- میں یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ گزشتہ سال میں نے کلکتہ عزاداری کے پلیٹ فارم سے بنگال کے امام باڑوں سے متعلق جانکاری مانگی تھی لیکن کسی نے بھی مجھے جانکاری دینے کی زحمت گوارا نہ کی- خیر شکوہ شکایت کا یہ سلسلہ دراز نہ ہوجائے میں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ امام باڑے حضرتِ امام حسین علیہ السلام اور ان کے 72 عزیزو اقارب سے منسوب ہوتے ہیں اس لئے قدیمی  اور جھوٹے بڑے کی قید سے آزاد ہوکر پہلے معلومات کی بنیاد پر اپنے سفر کا آغاز کرنا چاہتا ہوں اور اگر یہ سفر گھر سے شروع ہو تو اس سے بہتر میں سمجھتا ہوں کہ اور کچھ نہیں ہے(جاری)


امام باڑہ 

عزاخانہ

عاشور خانہ 

مغربی بنگال کا رثائی ادب. 


#Maghrabhi_Bangal_ka_Rasai_Adab 

#Imambara 

#Azakhawna


Defination of Imambara in Urdu 

Urdu Ka Rasai Adab

Define Kolkata  Imambara 

Defination of Imambara 

Defination  of Azakhawna

Defination of Ashoor Khawna

Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

Maghrabi Bangal ka Rasai Adab

Zamin Sb Ka Imambara